ابنا: اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر احمدی نژاد نے ونزوئیلا کے دارالحکومت کاراکاس میں ونزوئیلا کے صدر ہیوگو چاویز کے ساتھ ملاقات میں ایران اور ونزوئیلا کی اقوام کی یکجہتی پر تاکید کی ہے۔ یگزشتہ روز شام کو ہونے والی اس ملاقات میں جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ آج دونوں ممالک کی اقوام بدخواہوں کی خواہشات کے برخلاف ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور تسلط وتوسیع پسندوں کے مقابل ڈٹی ہوئي ہیں نیز اپنے مسلمہ حقوق کا دفاع کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدل و انصاف ، آزادی ، قوموں کا احترام ، فلاح و بہبود اور آزادی و سربلندی تمام اقوام اور انسانوں کا حق ہے اور پوری تاریخ میں سامراجی اور تسلط پسند طاقتوں نے قوموں کے ان حقوق کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور آزاد اقوام نے ہمیشہ ان کے حملوں کا دفاع کیا۔اس ملاقات میں ہیوگوچاویز نے کہا کہ آج ایران اور ونزوئیلا کی ملت و حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سامراج کی توسیع پسندی کو روکنے کے لئے اقدام کریں اور یہ کہ اگرچہ سامراج پوری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اپنے اس مقصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا نیز ایران اور ونزوئیلا کی اقوام دنیا کی اکثر قوموں کی مدد و حمایت سے سامراج کی لوٹ مار روکنے کی راہ پر گامزن رہیں گي۔
ایران اور ونزوئیلا کی اقوام دنیا کی ان اقوام میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ تسلط پسند نظام کا ، جس کی سربراہی امریکہ کرتا ہے ، مقابلہ کیا ہے اور بہت سی مشکلات برداشت کرنے کے باوجود بدستور اپنی مزاحمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے مسلمہ حقوق کا دفاع کر رہی ہیں۔آج ایران اور ونزوئیلا کی اقوام مشرق وسطی اور لاطینی امریکہ میں امریکہ کی مفاد پرستانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے ان علاقوں کی دیگر اقوام کے لئے نمونۂ عمل بن گئی ہیں اور اسی بنا پر مذکورہ دونوں علاقوں میں تسلط پسند نظام کے مفادات کو سنگین اور بنیادی خطروں کا سامنا ہے۔اب امریکہ کے لئے لاطینی امریکہ سیاسی جولانگاہ نہیں رہا ہے اور اب وہ اپنی مفاد پرستانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کو جاری نہیں رکھ سکتا۔لاطینی امریکہ کے ممالک میں عوامی حکمرانوں کے برسر اقتدار آنے اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ ان ممالک کے تعاون میں فروغ سے لاطینی امریکہ کے علاقے میں امریکہ پر عرصۂ حیات تنگ ہوگیا ہے۔
اسی بنا پر آج امریکہ والے اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر احمدی نژاد کے لاطینی امریکہ کے علاقے کے دورے اور جنوب جنوب تعاون میں فروغ سے پریشان اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مشرق وسطی کے حالات و معاملات میں تغیر پیدا ہوا اور امریکہ پہلے کی طرح استبدادی حکام کے ذریعہ اس علاقے میں اپنے ناجائز اہداف و مقاصد کوجاری نہیں رکھ سکتا۔یہ بات مشرق وسطی میں اسلامی بیداری اور ایران کے اسلامی انقلاب کی تاسی کرتے ہوئے عوامی انقلابات رونما ہونے سے آشکار تر ہوئی ہے۔مشرق وسطی کے بعض ممالک کے عوام تسلط پسندوں کے مقابل ایرانی عوام کی استقامت و مزاحمت کو اپنے لئے نمونہ بناکر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے جابر و ظالم حکومتوں کا تختہ پلٹ کر مشرق وسطی میں امریکہ پر عرصۂ حیات تنگ کردیا ہے۔
آج امریکہ مختلف علاقوں میں قوموں کی ہوشیاری اور مزاحمت و استقامت کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوا ہے۔عراق میں عوام کی ہوشیاری اور مزاحمت کے نتیجہ میں تقریبا" نو سال کے بعد عراق سے امریکہ کی پسپائي اس کی فوجی شکست ہے اور مصرسمیت ، جو تقریبا" تین عشروں تک علاقے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی خدمت کرتا رہا ، بعض ممالک میں جہاں انقلاب رونما ہوا ہے اسلام پسندوں کے اقتدار میں آنے سے امریکہ کی سیاسی شکست ہوئی ہے۔امریکہ میں وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک اور سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج ، جو گزشتہ ستمبر سے بدستور جاری ہے اور جس نے امریکی صدر باراک اوباما کو مشکل میں ڈال دیا ہے ، امریکہ کی اقتصادی شکست ہے۔امریکہ نے دنیا کے مختلف علاقوں میں قوموں کے اپنے حقوق کے لئے کی جانے والی مزاحمت کے نتیجہ میں ان سب شکستوں کا منہ دیکھا ہے اور قوموں کی بیداری سے ان کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔جیسا کہ ایرانی صدر احمدی نژاد نے کاراکاس میں ونزوئیلا کے صدر ہیوگو چاویز کے ساتھ ملاقات میں کہا حریت پسند قومیں اپنے حقوق کے علاوہ کچھ نہیں چاہتی ہیں اورقوموں کا مستقبل روشن اور اچھا ہے جس میں تسلط پسندی ، لوٹ مار اور جارحیت کے لئے کوئي جگہ نہیں ہے۔ ........./169